Social Media
سوشل میڈیا مختلف اپلیکیشنز اور ویبسائٹس کا ایسا مجموعہ ہے جس کے ذریعے سے لوگ،ادارے،ریاستیں ایک دوسرے سے رابطے قائم کرتی ہیں،خیالات و نظریات کا اظہار کرتی ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یوں تقریباً زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ سالوں سے سماجی رابطوں کی کچھ اپلیکیشنز جن میں فیس بک،واٹس ایپ،انسٹاگرام وغیرہ وغیرہ شامل ہیں سمارٹ فونز کی وجہ سے ہر خاص وعام ،تعلیم یافتہ و کم تعلیم یافتہ غرضیکہ ہر ایک کی دسترس میں ہیں۔
سماجی رابطوں کے اس ستون نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔دنیا سمٹ کے گلوبل ویلیج بن چکی ہے وہ لوگ جو برسوں ملاقات نہیں کر پاتے تھے اب پل پل ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں وہ معلومات جو کئی کئی برسوں کے بعد دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتی تھیں اب محض ایک بٹن کے دبانے کی دوری پر ہیں میلوں دور بیٹھے افراد بیک وقت ایک دوسرے کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں اور بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ مختلف کمپنیاں اپنی اشیاء کی تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہی ہیں دنیا کے بڑے بڑے رفاہی کاموں کے لیے درکار سرمائے کو جمع کرنے کے لیے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ گویا زندگی بدل سی گئی ہے ۔
ان سب فوائد کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں یوں سوشل میڈیا کے کئی فائدوں کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں۔ یہ نقصانات کس نوعیت کے ہیں،کتنے خطرناک ہیں، ان منفی پہلوؤں کی وجوہات کیا ہیں اور ان نقصانات کو کس طرح کم سے کم کیا جائے یہ سب غور طلب پہلو ہیں۔
ان نقصانات کا اندازہ ہم ان دنوں کرونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا کے ذریعے سے پھیلائی جانے والی غلطی معلومات سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ لوگ جان بوج کر لطفِ اندوز ہونے کے لئے یا پھر اپنے کسی خاص نظریے کے پھیلاؤ کے لئے یہ سب کر رہے ہیں تو کچھ لوگ انجانے میں ان سب معلومات کو مقدس فریضہ اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر بغیر کسی جانچ پڑتال کے پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت نے کرونا وائرس کا علاج سمجھ کر صبح سویرے کڑوے قہوے بھی نوش فرمائے اور قرآن پاک سے موئے مبارک بھی تلاش کیے۔ ہم نے پولیس کی قابلیت کو ظاہر کرنے کی غرض سے غیر انسانی سلوک پر تالیاں بھی بجائیں اور سیکڑوں ویڈیوز بنا بنا کر دنیا کو دکھائیں۔ لیکن ہم نے یہ نہ سوچا کہ جنھیں مرغے بنا کر انسانیت سوز ظلم کا شکار کیا جا رہا ہے ان میں کئی ایسے بھی ہیں جو دن کو کماتے تھے تو رات کو چولہا جلتا تھا جن کے بچے بھوک سے بلبلہ رہے ہیں ایسے میں ہم دنیا بھر میں ان کا مذاق بننے کی وجہ بن رہے ہیں۔
جبکہ دنیا میں سوشل میڈیا کو ہمارے مقابلے میں مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب تو اسے ایک نئے جنگی ہتھیار کے روپ میں استعمال کیا جا رہا ہے مشہور جہادی تنظیم حزب اللہ سوشل میڈیا کو اسرائیلی فوج کے خلاف کئی موقعوں پر کامیابی سے بطور ہتھیار استعمال کر چکی ہے امریکہ اپنے کئی فوجی آپریشن کے لئے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔ بڑے بڑے ادارے اور طاقتیں مستقبل کی پلاننگ کے لئے، کس خاص علاقے کے لوگوں کے رہن سہن کو سمجھنے کے لئے، کس خاص مقصد کے حصول کے لئے سوشل میڈیا کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم اگر ایک میسج پر کڑوا قہوہ نوش کر سکتے ہیں تو ہم کسی کے منظم پروپیگنڈے کا شکار ہو کر کچھ بھی الٹی سیدھی حرکت کر سکتے ہیں۔
ہمارے اس رویے کی اہم وجہ سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کی آگاہی نہ ہونا اور تعلیم کی کمی ہے۔ ہمیں اچانک سوشل میڈیا کی سہولت تو میسر آ گئی لیکن ہمیں اس کا صحیح استعمال نہیں سیکھایا گیا جو معلومات انگلش میں کسی بھی سوشل میڈیا اپلیکیشن کی ڈاؤنلوڈنگ پر فراہم کی جاتی ہیں اول تو وہ لوگ جو اپنی قومی زبان بامشکل سمجھ پاتے ہیں ان کے لئے یہ معلومات سمجھنا ناممکن ہے اور دوسرا چونکہ ملک میں کوئی ایسا قانون بھی موجود نہیں ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سزا دی جا سکے ایسے میں کوئی کیونکر کر ان سب چیزوں کے صحیح استعمال کو جاننے کے لئے وقت برباد کرے؟
یوں ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں رہتا کہ ہم جو معلومات شیئر کر رہے ہیں وہ کیا پتہ انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہوں ؟ کیا پتہ کسی کی دل آزاری کا باعث بن رہی ہوں ؟ کیا پتہ کسی منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہوں ؟ اس لئے ذمہ داران کو چاہیے کہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو قابل اور سوشل میڈیا کے حوالے سے آگاہی رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہو جو ایک ایسا طریقہ کار وضع کرے جسکے ذریعے بچوں سے لے کر بڑوں تک اور تعلیم یافتہ سے لے کر کم تعلیم یافتہ تک سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ اس کے بعد اتفاق رائے سے ایسے قوانین بنائے جائیں جو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام میں معاون و مددگار ثابت ہوں۔ اور یہ سب جتنا جلد کیا جائے اتنا سودمند ثابت ہو گا۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معاذرت۔شکریہ
تحریر ثاقب کیانی

Impresive writing
ReplyDeleteبہت اعلی تحریر لکھی ہے۔۔۔۔۔۔خوف کی وجہ سے ہونے والی 80% اموات میں ہر وہ بندہ برابر کا شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteAbsolutely right. There should be positive use of social media.
ReplyDeleteWell done
ReplyDelete